Water People Crops Fields

User Rating: 0 / 5

Star inactiveStar inactiveStar inactiveStar inactiveStar inactive
 

ہر شہر کی کوئی نہ کوئی وجۂ شہرت ہوتی ہے کوئی پشاور کی طرح خوشبوؤں کا شہر کہلاتا ہے کوئی کراچی کی طرح روشنیوں کا تو کوئی ملتا ن کی طرح اولیاءکرام کا ۔ اِسی طرح اگر پاکستان کے ملکی سطح کے کھیلوں کی بات کی جائے یا بین الاقوامی سطح کی ، ہمیں بنوں سے تمام چھوٹے بڑے ان ڈور اور آؤٹ ڈور کھیلوں کے لیے نکلنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ مایہ ناز کھلاڑیوں کی ایک کہکشاں ہر دور میں جگمگ کرتی ہوئی دکھائی دینے لگتی ہے۔ اِسی سپورٹس گیلیکسی سے قارئین کو متعارف کرانے کے لیے ہمارے نمائندے نے بنوں ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر جناب انور رشید صاحب نیشنل ہاکی پلیئر سے اُ ن کے دفتر جا کر تفصیلی انٹرویو قلمبند کیا ۔ اِس کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ہماری نوجوان نسل کو اِس بات کا علم ہو سکے گا کہ ضلع بنوں ، صوبہ پختونخواہ اور پاکستان کو ہمارے ضلعے اور یہاں کے تعلیمی اداروں نے کیسے کیسے نامور سپوتوں سے نوازا ہے نیز یہاں زیر ِتعلیم مستقبل کے معمار اگر ذرا سی محنت اور کوشش سے کام لیں تو وہ بھی اِن نیشنل ہیروز کی طرح تاریخ میں اپنا نام اجلے سنہری حروف میں لکھوا سکتے ہیں کیونکہ:

میراث تو نہیں ہیں کسی کے یہ علمِ و فن
وجدان کا چراغ ہے جس دل میں جل گیا

سجاد فاروق: گرامی قدر انور رشید صاحب! کیا بنوں میں کھلیوں کے ماضی حال اوراستقبال پر روشنی ڈالیں گے ؟
انوررشید صاحب:دیکھیں ، قیامِ پاکستان سے بھی پہلے سے لے کر دورِ حاضر تک ، بنوں کی مردم ساز اور مردم خیز سرزمین نے مملکتِ خداداد ، پاکستان کو کبھی کھیل کے کسی بھی میدان میں نامور اور بہترین کھلاڑی مہیا کرنے میں بخل سے کام نہیں لیا۔ آپ کے استفسار نے ذہن میں چراغوں کی ایک لمبی سی قطار لا کھڑی کی ہے۔ میں آپ کو باری باری مختلف کھیل کے میدانوں کو بنوں اورخاص کرپوسٹ گریجویٹ کالج سے مایہ ناز کھلاڑیوں کے نکلنے کی داستانِ ہوش رُبا سناؤں گا۔ 
سجاد فاروق: ماشاءاللہ ! آپ کی حیثیت تو سپورٹس کے چلتے پھرتے انسائیکلو پیڈیا کی سی ہے۔ آپ سب سے پہلے اپنے خاندانی کھیل ۔۔۔”ہاکی “کی داستان ِ عزم و ہمت ہمیں سنائیے ۔ 
انور رشیدصاحب: تقسیم سے قبل اور آزادی کے دوران خاص کر 47۔1946ءکے دوران آل انڈیا ہاکی ٹیم کو بنوں کی زرخیز سرزمین نے یعقوب خان اور دیان چند جیسے منجھے ہوئے صفِ اول کے ہاکی پلیئر مہیا کیے۔ یعقوب خان کے متعلق تو میں نے اپنے بزرگوں سے یہی سنا ہے کہ وہ محلہ غزنی خیل بنوں شہر کے رہائشی تھے اور لیفٹ آف و سنٹر ہاف کی پوزیشن پر کھیلتے ہوئے اپنے فن کا جادو جگاتے تھے اسی طرح دیان چند کی مشاقی اور خدادادڈاج کی صلاحیت کو دیکھ کر تو لوگوں میں یہی مشہور تھا کہ اُن کی ہاکی میں کوئی مقناطیس فِٹ ہے ۔ہاکی کے میدان کا یہ رستم زماں رائٹ ان کی پوزیشن پر کھیل کر دلوں کے قلعے فتح کیا کرتا تھا۔ روم اولمپک ہیرو اور قومی ہاکی ٹیم کے کپتان بریگیڈیر عبدالحمید خان عرف حمیدی کا تعلق بھی بنوں کی اِسی تاریخی سرزمین سے ہے۔ رشید جونیئر جو حمیدی کے چھوٹے بھائی ہیں اورہاکی کی دنیا میں ”کنگ آف دی ڈی‘ ‘ کے نام سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں وہ بھی متعدد بار پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کی کپتانی کرکے قوم اور ملک کا سر فخر سے اُونچا کر چکے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر خوشگوارحیرت ہوگی کہ رشید جونیئر پوسٹ گریجویٹ کالج کے نامور سپوت ہیں اِس پر یہ قدیم ترین علمی ادارہ جتنا فخر اور ناز کرے ، اُتنا کم ہے ۔ رشید جونیئر ہی کے ہم عصر امان اللہ خان عرف مانولی جو بغداد گلی ، بنوں شہر کے رہائشی ہیں، سنٹر فارورڈ اور رائٹ اِن کی پوزیشنوں پر کھیلتے ہوئے پاکستان انٹرنیشنل ہاکی ٹیم کی شہرت اور نیک نامی میں اضافہ کرتے رہے ہیں۔ آج پاکستان میں ایسا شخص مشکل سے ہی سے ملے گا جو سعیدخان کے نام اور کارناموں سے واقف نہ ہو۔ قومی ہاکی ٹیم میں وہ اپنے بہترین کھیل کی بنیاد پر آج بھی عزت اور قدر کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں ان کا تعلق بھی اِسی سرزمین سے ہے ۔ اپنے اعلیٰ کھیل اور بہترین کارکردگی کی بنیاد پر 1994ءمیں منعقد ہونے والے ورلڈ کپ مقابلوں کے لیے رشید جونیئر کو پاکستان ہاکی ٹیم کے بطور مینجر اور سعید خان کو بحیثیت کوچ کے ایمسٹرڈیم (ہالینڈ) بھیجا گیا ۔ جہاں اِن دونوں کی زیر نگرانی قومی ہاکی ٹیم نے اعلیٰ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرخرو اور فتح مند ہو کے واپس وطن لوٹی ۔ قومی ہاکی ٹیم کے حوالے سے قاضی محب کا نام بھی کسی رسمی تعارف کامحتاج نہیں وہ قومی ہاکی ٹیم کے کپتان رہے ہیں اور فل بیک کی پوزیشن پر کھیلتے ہوئے معیاری کھیل پیش کرتے رہے ہیں وہ بھی بنوں کے علاقے سوکڑی سے تعلق رکھتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے ۔ کینسر جیسے موذی اور جان لیوا مرض نے ہم سے اتنااچھا کھلاڑی چھین لیا ۔ سابق ایم این اے ناصر خان بھی اپنے وقتوں کے بہترین ہاکی پلیئر تصور کیے جاتے تھے اُنہوں نے پاکستان ہاکی ٹیم میں کھیل کر قوم و ملک کی نیک نامی میں اضافہ کیا۔ یہ بھی بنوں شہر کی بنک گلی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اکرم رضا اور شفقت اللہ اور نجیب خان تین ایسے قابلِ فخر نام ہیں جنہوں نے پوسٹ گریجویٹ کالج بنوں سے نکل کر ملکی اور بین الاقوامی سطح کی ہاکی ٹیموں میں کھیل کر نہ صرف بڑھیا کھیل کا مظاہرہ کیا بلکہ ہر جگہ قوم و ملک کے لیے فخر و ناز کا باعث بھی بنے ۔ چراغ سے چراغ جلنے کا یہ عمل آج تک جاری ہے چنانچہ موجودہ قومی ہاکی ٹیم کے دو مایہ ناز کھلاڑی ماجد خان اور احسان اللہ کا تعلق بھی اِسی شہر ِ مہر و وفا سے ہے ۔ ماجد خان تو بنوں شہر کا رہائشی ہے اور فل بیک کی پوزیشن پر کھیل کر مہارت کا ثبوت پیش کرتا ہے جبکہ احسان اللہ ہنجل نامی گاﺅں کا باسی ہے وہ بھی فل بیک ہی کی پوزیشن پر کھیلتا ہے ۔ تو یہ تھی عظمتوں اور رفعتوں سے بھری وہ رام کہانی جس کے ہر ہر کردار کے ساتھ قومی افتخار و نازش کی کتنی ہی ضمنی کہانیاں کوہ نور ہیروں کی طرح جگمگ جگمگ کرتی ہوئی نظروں کو خیرہ کر دیتی ہیں۔ 
سجاد فاروق: انور رشید ! آپ اِس داستان میں اپنے خاندان کا ذکر تو گول ہی کر گئے ۔
انور رشید: چلئے ، آپ سننے پر بضد ہیں تو میں سنائے دیتا ہوں ۔ ورنہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے کا خطرہ منہ کو تالا لگا دیتا ہے۔
    میرے والد گرامی ، بابائے ہاکی ظفر علی خان ظفری کو کون نہیں جانتا ۔ اُنہی کا فیضان ِ خاص تھا کہ میں بھی ہاکی کا فطری ذوق لے کر دنیا میں وارد ہوا۔ میں نے 80۔1979ءمیں پاکستان کی جونیئر ہاکی ٹیم میں رائٹ ان اور رائٹ آوٹ کی پوزیشن پر کھیلتے ہوئے اپنے خاندانی کھیل کی عظمتوں کوکاندھا دیا۔ پھر 2004۔1981ءپراونشیل ہاکی کوچ کے فرائض بھی سرانجام دیئے ۔ مجھے آج یہ بتاتے ہوئے یک گونہ فخر اور اطمینان کا احساس ہو رہا ہے کہ میں بھی پوسٹ گریجویٹ کالج ، بنوں ہی سے تعلق رکھتا ہوں اور آج کل میں بنوں میں بطور ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے کھیل کی سبانہ روز خدمت میں مصروف ہوں۔ 
سجاد فاروق: اب ذرا فٹ بال پر بھی روشنی ڈال دیجیے :
انور رشید صاحب: تقسیم سے قبل آل انڈیا فٹ بال ٹیم کے بطورکپتان رہتے ہوئے بنوں کے علاقہ سوکڑی کے ایک پلیئر اکبر جان خان نے خوب خوب نام کمایا ۔ اِسی طرح بنوں ہی کے نبی خان نے بھی شاندار کھیل کا مظاہرہ کرکے پاکستان کی قومی فٹ بال ٹیم میں اپنے لیے ایک مقتدر مقام بنایا ۔ بنوں کے علاقے فاطمہ خیل کے کھلاڑی سعید اللہ اور ثنا اللہ نے بھی ۰۸ءکی دہائی میں پاکستان کی قومی فٹ بال ٹیم میں کھیلتے ہوئے قوم و ملک کے نام کو بلند کرنے کی کوشش کی۔ 
سجاد فاروق : ماشاءاللہ آپ کی معلومات نہ صرف وسیع ہیں بلکہ عمیق بھی ہیں ۔ اب ذرا بنوں کے والی بال کھلاڑیوں کے نام بھی گنوا دیں ۔ تاکہ موجود ہ نسل کو اُن سے تعارف حاصل ہو سکے ۔ 
انور رشید صاحب : بس یہ آپ لوگوں کی محبت ، عقیدت اور ذرہ نوازی ہے ۔ بنوں کے حبیب اللہ ( فاطمہ خیل ) ، اسرار خان ( اسماعیل خیل ) صدیق خان ( اسماعیل خیل ) انور خان ( منڈان ) شاد محمد ( داؤد شاہ ) ساجد علی (شہباز عظمت خیل ، عمران خان  ( ہوید لنڈیڈاک) وغیرہ نے پاکستان کی قومی والی بال ٹیم میں اعلیٰ صلاحیتوں اور مہارتوں کا مظاہرہ کرکے شہرت سمیٹی ۔ اِن میںسے کئی ایک پوسٹ گریجویٹ کالج ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ 
سجاد فاروق : کرکٹ کے میدانوںکو بھی بنوں نے کسی عظیم سپوت سے نواز ہے کیا؟
انور رشید صاحب: بالکل ! تحصیل گلی بنوں کے اپنے ذاکر خان ، جو قومی کرکٹ ٹیم میں فاسٹ باؤلر کی حیثیت سے کھیلتے رہے ہیں جو آج کل پاکستان کرکٹ بورڈ کے آپریشن مینجر ہیں۔ فواد خان بھی قومی سطح کی کرکٹ کھیل چکے ہیں ۔ اِن کا تعلق بھی مادرِ علمی سے ہے۔ 
سجاد فاروق : اِ ن گیمز کے علاوہ بھی بنوں نے کوئی کھلاڑی پیدا کیے۔ کیونکہ یہاں کھیل کی سہولیات سرے سے ناپید رہی ہیں۔
انور رشید صاحب : کیوں نہیں! اس پسماندہ خطے کے باسیوں نے سہولیات کی کمی کوجوش و جذبے اور ہمت و عزم سے پورا کرکے اُن بڑے شہروں کے کھلاڑیوں کے لیے بھی ایکانوکھی اور عظیم مثال قائم کرکے یہ ثابت کر دیا ہے ۔ ع ۔ مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔ میں سرسری طور پر دیگر کھیلوں کے نامور کھلاڑیوں کے ناموں کو گنتا چلوں ۔ بنوں کے غلام نورانی خان ( حالیہ ڈائریکٹر نیشنل کوچنگ سنٹر ، پشاور) اور ساغر اللہ انٹرنیشنل اتھلیٹ ، گل شیر ( کوٹکہ طبیبان) اور بہادر خان ( سوکڑی ضابطہ خان ) کبڈی کے نامی گرامی کھلاڑی اور اسی طرح دوبھائی ناصر اقبال اور طاہر اقبال ( آمندی شاہجہان ) دورِ حاضر میں سکوائش میں پاکستان ٹیم کی نمائندگی کر رہے ہیں اور متعدد بار برٹش اوپن میں انڈر تھرٹین کے چیمپئن رہ چکے ہیں۔یہ تو ایک مختصر سا خاکہ تھا ورنہ تو
سفینہ چاہیے اس بحرِ بے کراں کے لیے 
سجاد فاروق : انور رشید صاحب ! آپ کی محبت اور تعاون کا بے حد شکریہ ۔

یہ انٹرویو رسالہ کُرم پوسٹ گریجویٹ کالج بنوں کے 2011 کے شمارے میں شائع ہوا

Special Thanks

Special Thanks for Prof:Samsher Ali Khan and Jahangir Khan Sikandri for history Information

Contact Us

If you want to give us your opinion or sggestion you can contact us at

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Urdu

Pak Urdu Installer

Monday the 14th. Its all about Bannu.