Water People Crops Fields

User Rating: 0 / 5

Star inactiveStar inactiveStar inactiveStar inactiveStar inactive
 

دریائے کرم

یہ دریائے پہاڑ کے متصل غزنی سے 50 میل دور کوہ سفید کے جنوبی حصے سے نکل کر علاقہ کرم میں قوم طوری کے زمینوں کو سیراب کرتے ہوئے ٹل بلند خیل شاخ، بنگش خیل کے پاس سے گزرتا ہے۔ ضلع بنوں کی مغربی حد سے متصل پوسٹ کرم کے مقام مشرق سے بنوں میں داخل ہوتا ہے یہ دریا تقریباً ہر موسم میں بہتا ہے آس پاس پہاڑی برساتی نالے اس میں جاگرتے ہیں۔ ماضی میں برسات کے دنوں دونوں کناروں تک بہتا تھا مگر کرم گڑھی سکیم کے بعد دریا سنبھلنے لگا۔ اب ماضی کی طرح کہرام بپا نہیں کرتا۔ ماضی میں بہت سارے قصبات اور اراضی دریا برد ہوئے ہیں۔ دریائے کرم سے قبیلہ منگل نے پہلی بار نہر کچکوٹ نکالی تھی ایک دوسری ویال پٹونہ ہے جو بعد میں جنوب سے موجود اولاد شیتک کے عہد میں نکالی گئی ہے جس سے علاقہ ممد خیل وزیر سیراب ہوتا ہے۔ مجیر نکلسن نے ویال لنڈیڈوک ٹیلی رام تحصیلدار کی نگرانی میں 1855ء میں کھدوائی۔ اسے ٹیلی رام نہر بھی کہتے ہیں اس سے لنڈیڈوک کی چھ ہزار کنال اراضی قابل کاشت بن گئی ہے اس کے علاوہ ویال آمندی ویال ہنجل ، ویال منڈان، ویال فاطمہ خیل، خون بہا، ویال چشنہ اور ویال شاہ اسی دریائے کرم سے نکالی گئی ہیں۔ ویال شاہ جو یہ شاجہان کے بیٹے دارا سے منسوب کی جاتی ہے۔ بہتر نظامِ آبپاشی کے باعث بنوں ایک زرخیر جگہ ہے۔ دور سے دیکھا جائے تو بنوں جنگل نظر آتا ہے۔

دریائے ٹوچی

یہ دریا وادی داوڑ کو سیراب کرتے ہوئے تنگہ سے گزرتا ہوا بنوں میں داخل ہوتا ہے جہاں اسے گریڑا کا نام دیا گیا ہے۔ بنوں میں وزیر بکا خیل اور علاقہ میریان کا کچھ حصہ سیراب کرتا ہے۔ ضلع لکی میں داخل ہو کر اس کا نام گمبیلا ہو جاتا ہے جو عیسک خیل کے قریب دریائے کرم میں جا گرتا ہے۔ ماضی میں جب کنویں نہ تھے تو اس کا پانی صحت کے لیے مفید خیال کیا جاتا تھا اور دریائے کرم کا پانی مضر صحت ہوا کرتا تھا چونکہ بنوں کے باسی انہی دریاؤں سے پانی پیتے تھے یہی وجہ تھی۔ ماضی میں بنوں وال مروت کے مقابلے میں زرد رو ، کمزور اور لاغر ہوا کرتے تھے۔ مگر اب صورت حال بہتر ہو گئی ہے۔ بنوں وال بھی اچھی صحت کے مالک ہیں اور پیٹ کی جملہ بیماروں سے نجات پا چکے ہیں۔

 

باران ڈیم

بنوں شہر سے آٹھ میل کے فاصلے پر ایک ذخیرہ آب ۔ یہ 130 فٹ اونچا اور 3600 فٹ لمبا ہے ۔ اس میں ایک لاکھ ایکٹر فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ اسکی تعمیر پر نو کروڑ 69 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ اس کا افتتاح 6 اپریل 1962ء کو صدر ایوب نے کیا تھا۔ اس ڈیم سے مروت کنال نکالی گئی ۔ جو کہ لکی مروت کے کچھ علاقے کو سیراب کرتی ہے۔ آج کل یہ ڈیم مٹی سے بھر چکا ہے۔ اور اس سے نکالی گئی نہر بھی ختم ہو چکی ہے۔ اب اس کو صرف مچھلیوں کی افزائش نسل اور شکار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں ایک خوبصورت ریسٹ ہاؤس بھی ہے جہاں پر اکثر پکنک منانے کے لیے بنوں شہر کے باشندے سیر کے لیے جاتے ہیں۔

Special Thanks

Special Thanks for Prof:Samsher Ali Khan and Jahangir Khan Sikandri for history Information

Contact Us

If you want to give us your opinion or sggestion you can contact us at

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Urdu

Pak Urdu Installer

Monday the 14th. Its all about Bannu.