Water People Crops Fields

User Rating: 0 / 5

Star inactiveStar inactiveStar inactiveStar inactiveStar inactive
 

ابتدا ء میں بنوں میں ہندو آباد تھے۔ بنوں میں جو ابتدائی افغان آباد ہوئے وہ ہنی اور منگل قبائل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ بارہویں صدی میں سلطان محمد غوری کے ساتھ یہاں آئے اور یہاں آباد ہوگئے۔ ان لوگوں نے دریائے کرم سے نہر کچکوٹ نکالی اور زراعت شرور کی۔ بمشکل نصف صدی گزاری ہوگی کہ ان میں بے دینی اور بے اتفاقی نے سر اٹھایا۔ اور وہ اپنے پیر و مرشد شیخ محمد روحانی کو عشر دینے سے انکاری ہوئے اس بنا پر وہ ناراض ہو گئے۔ اور وہ علاقہ شوال چلے گئے اور انہوں نے وہاں کے سردار شیتک جو پہلے ہی سے اپنے ہمسایہ قبیلہ وزیروں سے سخت پریشان تھے، کو بنوں پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔ انھوں نے موقع غنیمت جانا اور ایک لشکر کو ترتیب دیا اور اولادِ شاہ نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ چنانچہ بیس ہزار کی جمعیت کے ساتھ بنوں کی جانب روانہ ہوئے۔ لشکر کی قیات کیوی ، سوری پسرانِ شیتک اور شاہ بین پسرِ شاہ محمد روحانی نے کی اور یہ لشکر دریائے ٹوچی کے جنوبی کنارے پر خیمہ زن ہوا۔ اور یہاں سے ہنی اور منگل قبیلہ کے سرداروں کے پاس قاصد روانہ کیے اور انھیں پیغام بھیجا کہ یا تو بغیر کشت و خون کے وہ لوگ یہاں سے چلے جائیں اور اگر بنوں میں ان کو رہنا ہو تو انھیں بنیادی حقوق سے محروم ہونا پڑے گا۔ اور اگر مزاحمت کریں گے تو انھیں قتل کر دیا جائے گا۔ ہنی اور منگل قبائل نے پہلی صورت قبول کر لی اور اس طرح براستہ ٹل پاڑہ چنا سے ہوتے ہوئے پاڑہ چنار اور پھر خوست کی سرحد پر آباد ہوئے۔ کچھ کو اولادِ شیتک نے قتل کیا اور کچھ ہندوستان کی طرف چلے گئے۔ کچھ کو یہاں پر رہنے دیا گیا۔ جو کہ اب بھی بنوں میں کہیں کہیں آباد ہیں۔

 

 

Special Thanks

Special Thanks for Prof:Samsher Ali Khan and Jahangir Khan Sikandri for history Information

Contact Us

If you want to give us your opinion or sggestion you can contact us at

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Urdu

Pak Urdu Installer

Monday the 14th. Its all about Bannu.